بنگلورو،24؍دسمبر(ایس او نیوز)کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کو منگل کے روز اس وقت شدید دھکا لگا جب کرناٹک ہائی کورٹ نے اراضی ڈی نوٹی فکیشن معاملہ میں ان کے خلاف 2007-08کے دوران درج نجی شکایت کو کالعدم قرار دینے سے انکار کردیا۔
جسٹس جان مائیکل کنا نے اپنے حکم نامہ میں کہا کہ ایڈی یورپا کے وکیل کی طرف سے پیش کیا گیا یہ استدلال قابل قبول نہیں ہے کہ ایف آئی آر کو منسوخ کردیا جائے کیونکہ اس معاملہ میں ملزم نمبر۔1(سابق وزیر آر وی دیش پانڈے) کے حق میں جو حکم صادر کیا گیا اس سے عرضی گزار ایڈی یورپا کو کوئی راحت نہیں دی جاسکتی۔
جج نے اپنے حکم میں لوک آیوکتہ کو یہ ہدایت دی کہ سرکاری ملازمین، اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کی بدعنوانیوں کی جانچ کرنے کے متعلق فوجداری عدالتوں کی طرف سے جو احکامات جاری کئے جاتے ہیں ان پر عمل یقینی بنایا جائے۔
مزید کہا گیا ہے آر وی دیش پانڈے اور ایڈی یورپا الگ الگ وقت پر عہدوں پر رہے اس لئے نجی شکایت کو سازش سمجھا نہیں جا سکتا۔ جج نے کہا کہ شکایت میں یہ کہا گیا ہے کہ عرضی گزار کی طرف سے بحیثیت نائب وزیر اعلیٰ جو زمین ڈی نوٹی فائی کروائی گئی اس کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی بات کہی گئی ہے۔
ایڈی یورپا پر یہ شکایت درج کرائی گئی تھی کہ 2006کے دوران انہوں نے شہر کے بیلانڈور اور دیوربیسنا ہلی میں اراضی آئی ٹی پارکوں کے لئے ڈی نوٹیفائی کی تھی۔ واسو دیوا ریڈی نے لوک آیوکتہ کی خصوصی عدالت میں یہ شکایت درج کروائی تھی جں میں کہا گیا تھا کہ ایڈی یورپا نے 30ایکڑ سرکاری اراضیڈی نوٹیفائی کروائی جس کے سبب اس کا استعمال رہائشی مقاصد کے لئے ہو نے لگا ہے۔ صنعتوں کے لئے مخصوص اس زمین کے لئے کرناٹکا انڈسٹریل ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کی طرف سے 500ایکڑ زمین اکوائر ہونے والے تھی جس کو ڈی نوٹیفکینش کی وجہ سے گھٹا کر 434ایکڑ کردیا گیا۔